جس کی صورت گلاب جیسی ہے اس سے دوری عذاب جیسی ہے کیا پلایا ہے تیری نظروں نے ساری مستی شراب جیسی ہے تیرے پیکر میں جو نزاکت ہے وہ گلوں کے شباب جیسی ہے تیرے چہرے کی حسن و رعنائی اک مقدس کتاب جیسی ہے دوست دل میں میرے تیری چاہت گرمئی آفتاب جیسی ہے میری شہرت خلیل گاؤں میں اک خانہ خراب جیسی ہے
0 Comments